بھارت کی جانب سے آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سنگین قانونی خلاف ورزی قرار
بھارت کی جانب سے آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سنگین قانونی خلاف ورزی قرار
پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا عالمی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔دریائے چناب پر بھارتی ڈیموں کی تعمیر،کے حوالے سے ممتاز قانون دان احمر بلال صوفی کا قانونی آراء پر معلوماتی آرٹیکل،آرٹیکل میں مزید بتایا گیا ہے کے
بھارتی وزراء کے بیانات سے آبی منصوبوں کے مقاصد عیاں ہو رہے ہیں،جبکے پانی کے بہاؤ کو محدود کرنے کے بیانات سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوگا،آرٹیکل میں مزید کہا گیا ہے کے سندھ طاس معاہدے کی معطلی نے نئے عالمی قانونی مباحث کو جنم دیا ہے،سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا کے آبی استحکام کی بنیاد ہے،ممتاز ماہر قانون نے مزید لکھا کے آبی تنازعات کا حل عالمی قوانین کے تحت ہونا چاہیے، جنگی مقاصد کیلئے آبی تنصیبات کا قانونی تحفظ ختم ہو سکتا ہے،ممتاز ماہر قانون نے مزید لکھا کے خالی زیرِ تعمیر ڈیم کو مکمل ڈیم جیسا قانونی تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا،اورزیرِ تعمیر اور خالی ڈیموں کی قانونی حیثیت پر مختلف آراء ہو سکتی ہیں،ممتاز ماہر قانون نے مزید لکھا کے دریائے چناب پر بھارتی منصوبے، سفارتی اور قانونی چیلنجز سے دو چار ہونگے اوربھارت دریائے چناب پر عالمی قوانین کے خلاف بڑے پن بجلی منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔